12۔ خروج

12۔ خروج — تصویر 1

بنی اسرائیل ملکِ مصر کو چھوڑنے پربہت خوش تھے۔ اب وہ غلام نہیں تھے، اور وعدہ کی ہوئی سرزمین کی طرف جا رہے تھے۔ مصریوں نے بنی اسرائیل کو جو کچھ اُنہوں نے مانگا دے دیا،حتی ٰکہ سونا، چاندی اور قیمتی اشیاء بھی۔ دوسری قوموں میں سے کچھ لوگ جو خدا پر ایمان رکھتے تھے، جب بنی اسرا‏ئیل مصر سے روانہ ہوئے تو اُن کے ساتھ ہو لئے۔

12۔ خروج — تصویر 2

خدا دن کے وقت اُن کے آگے ایک بڑے بادل کاستون بن کر چلتا اور رات کو آگ کا ستون بن جاتاتھا۔ خداہمیشہ اُن کے ساتھ رہتا اور سفر کے دوران اُن کی رہنمائی کرتا تھا۔ اُن کو صرف ایک کام کرنےکی ضرورت تھی کہ اُس کی پیروی کرتے ۔

12۔ خروج — تصویر 3

جلد ہی فرعون اور اُس کے لوگوں کا ارادہ بدل‎ ‎گیا اور انہوں نے بنی اسرائیل کو دوبارہ اپناغلام بنانا چاہا۔ خدا نے فرعون کادل ضدی بنا دیا تاکہ لوگ یہ دیکھ سکیں کہ وہی واحدسچا خدا ہے، اور یہ جان سکیں کہ وہ یہوواہ، فرعون اور اُس کے دیوتاوں سے زیادہ قوی ہے۔

12۔ خروج — تصویر 4

پس فرعون اور اُس کی فوج نے بنی اسرائیل کو دوبارہ اپناغلام بنانے کےلئے اُن کا پیچھاکیا ۔ جب بنی اسرائیل نے مصری فوج کو آتے دیکھا، تو اُنہیں یہ احساس ہوا کہ وہ فرعون کی فوج اور بحر قلزم کے درمیان پھنس گئے ہیں۔ وہ بہت ڈر گئے اور چلاّئے،" ہم نے مصر کوکیوں چھوڑا؟ ہم مارےجائیں گے۔"

12۔ خروج — تصویر 5

حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل سے کہا،" ڈرو مت‎!‎ آج خدا تمھاری خاطر لڑے گا اور تمہیں بچائےگا۔" پھر خدا نے حضرت موسیٰ سے کہا،“لوگوں سے کہو کہ وہ بحر قلزم کی جانب بڑھیں۔”

12۔ خروج — تصویر 6

پھر خدا نے بادل کے ستون کو بنی اسرائیل اور مصریوں کے درمیان رکھا تاکہ مصری بنی اسرائیل کو دیکھ نہ سکیں۔

12۔ خروج — تصویر 7

خدا نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ وہ اپنا ہاتھ سمندرکی طرف بڑھا کر پانی کو تقسیم کر دیں۔ تب خدا نے سمندر کے پانی کو آندھی سے دائیں اور بائیں دھکیلا تاکہ سمندر میں ایک راستہ بن جائے۔

12۔ خروج — تصویر 8

بنی اسرائیل سمندر کے بیچ میں خشک زمیں پر چلے،جبکہ پانی کی دیوار اُن کے دونوں جانب کھڑی رہی۔

12۔ خروج — تصویر 9

پھر خدا نے بادل کے ستون کو اُن کے راستے میں سے اوپر اٹھالیا تاکہ مصری بنی اسرائیل کو فرار ہوتے ہوئے دیکھ سکیں۔ مصریوں نے اُن کاپیچھاکرنے کا ارادہ کیا۔

12۔ خروج — تصویر 10

پس اُنہوں نے سمندر کے بیچ کےراستہ پر بنی اسرائیل کا پیچھا کیا،مگر خدا نے مصریوں پر دہشت ‎ ڈالی اوراُن کے رتھ دھنس گئے۔ وہ چلاّئے،“بھاگو‎!‎ خدا بنی اسرائیل کی طرف سے لڑ رہا ہے۔”

12۔ خروج — تصویر 11

تمام بنی اسرائیل جب بحفاظت سمندر پار کر چکے تو خدا نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ اپنا بازو دوبارہ بڑھائے۔ جب اُس نے خدا کاحکم مانا ،تو پانی مصری فوج کےاوپر واپس اپنی اصلی حالت میں آگیا ۔ ساری مصری فوج ڈوب گئی۔

12۔ خروج — تصویر 12

جب بنی اسرائیل نے دیکھا کہ مصری مر گئے ہیں، تو وہ خدا پر ایمان لائے اور یقین کیا کہ حضرت موسیٰ خدا کے نبی ہیں۔

12۔ خروج — تصویر 13

بنی اسرائیل نے بھی بہت پُرجوش طریقے سے خوشی منائی کیونکہ خدا نے انہیں موت اور غلامی سے رہائی بخشی تھی‎! اب وہ خدا کی خدمت کے لئے آزاد تھے۔ بنی اسرائیل نے اپنی نئی آزادی کو بہت سے گیت گاکر منایااور خدا کی حمدو ثنا کی کیونکہ اُس نے اُنہیں مصری فوج سے بچایا تھا۔

12۔ خروج — تصویر 14

خدا نے بنی اسرائیل کوہر سال فسح منانے کا حکم دیاتا کہ وہ یہ یاد رکھیں کہ کیسے خدا نے اُنہیں مصریوں پر فتح بخشی اور غلامی سے چھڑایا تھا۔ اُنہوں نے فسح،ایک بے عیب برےکی قربانی کر کے،اور بِنا خمیرکے بنی ہوئی روٹی کے ساتھ اُسے کھا کر منائی۔

خروج 12‏‎:‏33‏‎-‏15‏‎21:‎ سے لی گئی بائبل کی ایک کہانی

ریڈر میں پڑھیں

کھلے لائسنس (CC BY-SA 4.0) کے تحت استعمال، تبدیلی اور اشتراک کے لیے مفت۔